کلام محمود — Page 121
یاره ایی وقت کہ تھی جن کی انتظار رہ سکتے سکتے جن کی کروڑوں ہی مرگئے آئے بھی اور آکے پہلے بھی گئے وہ آہ: ایام سعد اُن کے بسرعت گذر گئے آمد تھی ان کی یا کہ حسدا کا نزدل تھا صدیوں کا کام تھوڑے سے عرصہ میں گر گئے ڈو پیٹر ہورہے تھے جو دس سے چوب خشک پڑتے ہی ایک چھینا ولن سے بھر گئے پل بھر یں میں سینکڑوں برسوں کی فصل گئی صدیوں کے بگڑے ایک نظر میں سدھر گئے پر کر گئے فلاح سے بھولی مراد کی دامان آرزو کو سعادت سے بھر گئے پر تم کو منی پڑے رہے غفلت میں خواب کی دیکھا نہ آنکھ کھول کے ساتھی کدھر گئے صد حیف ایسے وقت کو ہاتھوں سے کھو دیا واحسرتنا ! کہ جیتے ہی جی تم تو مر گئے سونگھی نہ ہوئے خوش نہ ہوئی دید گل نصیب افسوس دن بہار کے یونہی گزر گئے اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۹ جون ۱۲۵