کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 97
فرمایا :- 94 لُوا اهْلَ الذِكرِان كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ٥ كل ٢٢٠ کہہ کر کفار کو شرمندہ کیا گیا ہے۔وہ دعویدار تھے کہ وہ ابراہیم اور اسمعیل کی اولاد ہیں اور ان کے حالات بھی ان کے سامنے تھے کہ کس طرح تکالیف اُٹھا کر کامیاب ہوئے۔پس فرماتا ہے کہ تم تو شاید اپنے بزرگوں کو بھول گئے ہو۔اگر تم کو ان باتوں کا علم نہیں تو دوسری اقوام سے دریافت کر لو۔ذکر کے معنے چونکہ یاد کرنے کے بھی ہیں۔اھل الذکر سے مراد یا درکھنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں۔اس صورت میں یوں معنے ہوں گے کہ اگر تم نہیں جانتے اور باپ دادوں کی باتوں کو بھول گئے ہو تو جن کو یاد ہیں اُن سے پوچھ لو یعنی مسلمانوں سے۔یہ پیرایہ کلام نہایت لطیف اور بلیغ ہے۔کفار یہ طنز سُن کر دل میں کٹ ہی مرے ہوں گے۔نوحی الیھم کہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ نبی کا شرف فوجوں اور سامانوں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی دولت اس کی وحی ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ فتح پاتا ہے۔اس آیت میں اِس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر کفار خیال کریں کہ اس بے سامان آدمی کے ذریعہ مسلمانوں کو حکومت کہاں سے مل جائے گی تو اُن کو یاد رکھنا چاہیے کہ پہلے انبیاء بھی ایسے ہی