کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 93 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 93

۹۳ میرے اس بیان کی تائید اس سے بھی ہو جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ اس سے پیشتر روحانی تجلی دیکھ چکے تھے جیسا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا الى انا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ هویه (طلہ ہوں) پھر جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ دیکھے تھے تو اُنکے اس قول کے کیا معنے ہوئے کہ اسے اللہ مجھے اپنا آپ دکھا مگر اسکے یہ معنے کئے جائیں کہ پہلے روحانی تجلی دیکھی تھی اب وہ اللہ تعالی کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام جیسے برگزیدہ نبی کو بیوقوف قرار دیا جائے نعوذ باللہ من ذالک کیونکہ کسی کا یہ کہنا کہ اسے خدا تو مجھے مجسم ہو کر نظر آنا دانی کی بات ہے۔اور یہ بات حضرت موسیٰ کی طرف ہرگز منسوب نہیں ہو سکتی۔پس یہ رویت کی درخواست روحانی ہی قرار دی جاسکتی ہے۔اور چونکہ موسوی تحتی پہلے ان پر ہو چکی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب جو خواہش انہوں نے کئی تو وہ کیسی اور رویت کے لئے تھی اور چونکہ اس درخواست سے معا پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی گئی تھی میں ہی قیاس کرتا ہوں کہ درخواست اُن کی محمدی تجلی کے دیکھنے کے بارے میں تھی جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ لن ترانی " کہ تو مجھے اس صورت میں نہیں دیکھ سکتا جس صورت میں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنا ہے کیونکہ اس کے دیکھنے کے لئے محمدی مرتبہ کی