کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 77
حصہ دو ماغ میں ڈالتے ہیں۔الا ما شاء اللہ۔دماغ کے تین حصے ہوتے ہیں ایک وہ حصہ جس کے ذریعہ ہم چیزوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں دوسرا وہ حصہ جو خیرہ کے طور پر ہوتا ہے اس میں باتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں جو یاد کرنے پر یاد آجاتی ہیں اور تیسرا وہ حصہ جس میں ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر یاد کرنے سے بھی اس میں جو کچھ ہو یاد نہیں آتا بلکہ بہت کریدنے سے وہ بات سامنے آتی ہے ملائکہ کبھی اس تیسرے حقے میں بھی علوم داخل کر جاتے ہیں جب ان کی ضرورت ہو اس وقت ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں کہ وہ علوم سامنے آجاتے ہیں۔یوں یاد کرنے سے نہیں آتے۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے میری کوئی ۱۷ ۱۸ سال کی عمر ہوگی۔۔۔۔خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے جو مجھے کہتا ہے کیا تمہیں کچھ سکھائیں ؟ میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے کہا سورۂ فاتحہ کی تفسیر سکھائیں ؟ میں نے کہا ہاں اسکھائیے اس رویا کا بھی عجیب نظارہ تھا۔یہ شروع اِس طرح ہوئی کہ پہلے اس میں مجھے ٹن کی آواز آئی اور پھر وہ پھیلنے لگی اور پھیل کر ایک میدان بن گئی اس میں سے مجھے ایک شکل نظر آنے لگی جو ہوتے ہوتے صاف ہو گئی اور یکیں نے دیکھا کہ فرشتہ ہے اس نے مجھے کہا تمہیں علم سکھاؤں بائیں نے کہا سکھاؤ۔اس نے کہا لو اسورۂ فاتحہ کی تفسیر سیکھو۔اس پر اس نے سکھانی شروع کی اور ایاک نعبد پر پہنچے کر کہا سب نے اسی حد تک تفسیریں لکھی ہیں آگے نہیں لکھیں۔