کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 57 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 57

گیا ہے اور حضرت شیخ کے بعد بالترتیب حضرت الحق أحضرت یعقوب ، حضرت موسائی اور پھر حضرت اسمعیل کا ذکر کیا گیا ہے۔عیسائی کہتے ہیں کہ یہ ترتیب نبیوں کی تاریخی ترتیب کے بالکل خلاف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ اللہ حضور کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ کون سائبی پہلے گذرا ہے اور کون سا بعد میں ؟ دوسری تفسیروں میں تو اس کا کوئی حل نہیں ملتا مگر حضرت مصلح موعود نے اس قرآنی ترتیب کا ایسا تعجب خیر فلسفہ پیش کیا ہے کہ تاریخی ترتیب اس کے سامنے بالکل پہنے نظر آتی ہے اور قرآنی ترتیب ہی طبیعی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ر مشیح کے بعد ابراہیم کا ذکر قابل اعتراض نہیں بلکہ طبعی ترتیب ہی تھی کہ ابراہیم کا ذکر کیا جاتا اور یہ ترتیب دو وجوہ سے اختیار کی گئی ہے۔اول یہ بتانے کے لئے کہ بانی سلسلہ موسویہ یا اسرائیلی شرک کا دشمن تھا پھر ان کی نسل کا ایک فرد شرک قائم کرنے والا کس طرح ہو سکتا ہے ؟ دوم یہ بتانے کے لئے کہ ابراہیم نے دو بیٹوں کے متعلق خبر دی تھی ایک اسحق کی جس میں سے موسٹی نے سلسلہ کی بنیاد رکھی دوسرے اسمعیل کی۔موسوی سلسلے کو کبھی ختم ہونا چاہیئے تھا تا کہ اسمعیلی سلسلے کے وعدے شروع ہوتے پیس سیٹھ کی آمد سے جو بغیر باپ کے تھا اسرائیلی سلسلہ ختم ہو تا کہ امیلی سلسلہ شروع ہوا۔اسی