کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 11
" رکھنے والے علماء کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔اسی طرح ترجمان القرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مہر سے مراد خدا کے وہ مقرب بندے ہیں جن پر معارف قرآنی کھولے جاتے ہیں لیے اس تعلق میں حضور نے ایک بار نہایت واضح لفظوں میں یہ بھی فرمایا۔"LENDANT KE اللهُ بِعَبْدِ خَيْرًا طَهَّرَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالُوا وَمَا طَهُورُ الْعَبْدِ قَالَ عَمَل صَالِحُ يُلْهِمُهُ إِيَّاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَيْهِ لَه (ترجمہ) جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو کسی عظیم نعمت سے سرفراز کرنا چاہتا ہے تو وہ اُس بندے کی موت سے پہلے اُس کے لئے کامل پاکیزگی کے سامان مہیا کر دیتا ہے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس بندے کی پاکیزگی کے وہ کونسے سامان ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ عمل صالح بجالانے کا "الدر المنثور للسيوطى " جو ساوس ص : طبراني عن ابى امامه بحوالہ " جامع الصغير جز اوّل صا للحافظ علامه سيوطى مطبعة الخيريه مصر وكنز العمال للعلامة علاؤ الدین متقی جز عام مطبعة الثقافة حلب