کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 12
شوق و جذبہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں الہام کرتا رہتا ہے حتی کہ اسی حالت میں اُس کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔نیز فرمایا :- إذا ارادَ اللَّهُ بِعَبْدِ خَيْرًا فَقَهَهُ فِي الدِّيْنِ وَ الهمة رُشده ل (ترجمہ) جب اللہ تعالیٰ کسی بندر سے کی بہتری کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کرتا اور اسے رشد و خیر کا الہام فرماتا ہے۔چونکہ اہل اللہ اور اولیاء کی سب سے بڑی فضیلت اور کمال یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے عاشق صادق ہوتے ہیں اور برکت تعشق قرآن ان کو علم قرآنی دیا جاتا ہے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :- إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ وَإِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللهِ وَخَاقَتُهُ لَ (ترجمہ) بے شک لوگوں میں سے بندگان الہی تو (بہت) ہیں لیکن اہل اللہ اور خدا کے خاص بندے وہ ہیں جن کو قرآن به معجم الصغير للسيوطى جز اول من۔کے مسند احمد بن حنبل الجزء الثالث "۔