کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 98 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 98

۹۸ تھے اور اُن کے پاس وحی الہی کے سوا کچھ نہ تھا۔پھر اللہ تعالے نے اُن کے ذریعہ دنیا میں بہت بڑے تغیرات پیدا کر دئے اور اسی دنیا میں ایک محشر برپا کر دیا۔یہاں پر رجالا اس لئے فرمایا کہ اُن کا مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے پر ملائکہ کیوں نازل نہیں ہوتے چنانچہ پہلی سورۃ میں بھی ان کا مطالبہ کو مَا تَأْتِينَا بِالْمَلَكَةِ کے الفاظ میں گذر چکا ہے۔یہاں ان کے خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طنز بھی ہے اور وہ یہ کہ تم تو فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہو پھر وہ ایچی بن کر تمہارے پاس کیونکہ آئیں اہلیچی بن کر تو مرد ہی آئیں گے۔چونکہ ہجرت کے بعد حکومت ملنی تھی اور حکومت کے ساتھ ان لالچیوں کے گروہ نے بھی پیدا ہونا تھا جو اس حکومت کو دنیوی حکومت سمجھ کر اس میں سے حصہ بٹانے کی کوشش کرنے والے تھے۔جیسے مسیلمہ ، سجاح وغیرہ نے کی۔اس لئے کوئی بعید نہیں کہ اس آیت میں اس آنے والے فتنہ کا بھی سد باب کیا گیا ہو جب لوگوں نے فصاحت پر و سوئی نبوت کی بنیا د رکھی تھی اور بعض عورتیں بھی نبوت کا دعوی کرنے والی تھیں ان دونوں خیالات کا رد رجالا اور نُوحِی اِلَيْهِمْ کے الفاظ سے کیا گیا ہے تفسیر کبیر حصہ سوم به