کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 88
AA کی گنجی ہے اور اس میں ایسے گر بتائے گئے ہیں جن سے اگلی سورۃ کے مضایی خود بخود کھل جاتے ہیں۔بڑی چیز جو بسم اللہ کے ذریعہ ظاہر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غیر معمولی ہوتی ہے۔مثلاً یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے عقیدہ کے لحاظ سے، یعنی دنیا کے عقائد کچھ اور ہوتے ہیں اور قرآن کریم کوئی اور عقیدہ پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا کہہ دیتی ہے کہ یہ غلط ہے۔یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے آئندہ واقعات کے لحاظ سے یعنی اس میں ایسی پیشگوئی ہوتی ہے جو حیرت انگیز ہوتی ہے یا وہ غیر معمولی ہوتی ہے پرانے اخبار کے لحاظ سے یعنی تاریخ کچھ اور کہتی ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ میچ نہیں۔اصل واقعہ یوں ہے۔یا غیر معمولی ہوتی ہے اس لحاظ سے کود نیوی قانونِ قدرت جو لوگوں نے سمجھ رکھا ہوتا ہے اس کے خلاف ہوتی ہے اور لوگ کہتے ہیں قرآن کریم نے یہ بات سائنس کے خلاف کہہ دی ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی غیر معمولی بات اس میں آجاتی ہے یا اے سورۂ فاتحہ سے قومی ترقی و تنزل کے اصولوں کا استدلال کیس جامعیت سے کرتے ہیں :۔در سورۂ فاتحہ سے لیکر والناس تک سارا قرآن ان بیانات سے ۱۲۹ له تفسیر کبیر جلد و جز چهارم حصہ سوم ما :