کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 71
ان کی حالت کو مشتہیہ کر دیا کہ ان پر کوئی شخص اعتبار کرنے کے لیے کر کہ تیار نہیں ہو سکتا تھا۔تب اللہ تعالٰی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن کریم کو نازل کیا۔یہ آپ کے دل کا خون ہی تھا جو آسمان سے قرآن کو کھینچ لایا۔اس قرآن کے آثار قدیمہ کے مختلف کمروں میں آدم اور نوح اور ابراہیم اور موسی اور ہارون اور دیگر تمام انبیاء کی چیزیں ایک قرینہ سے پڑی ہوئی ہیں میل کچیل سے مبری، داغوں اور دھبوں سے صاف چھینٹوں اور غلاظت سے پاک، ہر چیز اصلی اور حقیقی رنگ میں ہمارے پاس ہے۔پرانے سے پرانے آثار اس میں پائے جاتے ہیں اور صحیح سے صحیح حالات اس میں موجود ہیں۔مگر افسوس ہزار افسوس کہ لوگ اس عظیم الشان خزانہ کی تود قدر نہیں کرتے مگر چند پھٹے ہوئے کاغذ چند ٹوٹی ہوئی چھریاں چند پرانے اور بوسیدہ کپڑے اور چند شکستہ برتن جب کوئی زمین سے نکالتا ہے تو اس کی تعریف کے شور سے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں واہ واہ اس نے کسی قدر عظیم الشان کارنامہ سر انجام دیا۔وہ خزانہ جو خدا نے ان کو دیا تھا اس کو وہ بُھول گئے۔وہ سمندر جو خدا نے ان کو عطا کیا تھا اس سے انہوں نے