کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 62 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 62

۶۲ (ترجمہ) مجھے یہ ضرور کہنا چاہیے کہ مطالعہ قرآن میرے لئے نہایت ہی تھکا دینے والا ایک کٹھن عمل تھا، جو کبھی میں نے اختیار کیا ہو۔قرآن کی عبارتیں اُکتا دینے والی ، ژولیدہ بیانیوں سے بھر پور، بھونڈے انتشر اور بے ہنگم الفاظ کا ملغوبہ ، انتہائی بے ترتیبی، بے ربطی اور بدنظمی سے معمور ہیں۔اس میں نہ ختم ہونیوالی تکرار، فقرات اور بندشیں نہایت ہی دراز ہیں جن کی ادائیگی کے لئے ایک طویل سانس کی ضرورت ہے۔المختصر را یہ نا قابل برداشت حماقتوں کا مرقع ہے۔ایک یورو میں اسے صرف اس وقت زیر طاہی رکھ سکتا ہے جب کہ ادائیگی فرض کے لئے اسے مجبور کیا جاگہ (معاذاللہ اس سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حقیقت سے نا آشنا ہونے کے باعث بہت سے مسلمان بھی قرآن کے بارہ میں مملک شکوک و شبہات میں مبتلا ہوگئے جیسا کہ جناب سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی اپنی تفسیر کے دیباچہ میں تحریر کرتے ہیں :۔اقرآن کا مطالعہ کر کے آدمی پریشان ہو جاتا ہے اور اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ غیر مرتب غیر مربوط، منتشر کلام ہے جو اول سے لے کر آخر تک بے شمار چھوٹے بڑے مختلف شذرات پر مشتمل ہے مگر مسلسل عبارت کی شکل میں رکھ دیا گیا ہے مخالفانہ نقطۂ نظر سے دیکھنے والا اسی پر طرح طرح کے اعتراضات بنا کر رکھ دیتا ہے اور موافقانہ نقطہ نظر رکھنے والا کبھی معنی کی طرف سے