کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 60 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 60

چومتی مثال :- سورہ نور کا آغاز حضرت عائشہ کے واقعہ افک سے ہوتا ہے اور اختتام آیت استخلاف پر۔ان کا باہمی اتصال کیا ہے ؟ اس نہایت اہم پہلو پر کسی مفتر نے آج ایک فلم نہیں اُٹھایا لیکن حضرت مصلح موعود نے تاریخ کی روشنی میں ان کے باہمی اتصال کو ایساباتین اور واضح کر دیا ہے کہ علم کلام کے زاویے ہی بدل گئے !ا حضور معاند این اسلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔آپ پر الزام یا تو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے نبض کی دوستے لگایا گیا یا پھرحضرت ابو بکر کے بعض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں۔وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر نہیں ہے۔پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گھر جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بد خلق ہو کہ اس عقیدت کو ترک کر دیں جو انہیں آپ سے تھی اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بردہ کے خلیفہ ہونے کا