کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 58 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 58

DA وجہ سے اس سورۃ میں پہلے ذکریا کا ذکر کیا توشیح کے لئے بطور ارہاص آنے والے وجود کے والد تھے۔پھر حضرت بیٹی کا ذکر کیا کہ وہ شیخ کے لئے بطور ا رہا م آئے تھے۔پھر شیح کا ذکر کیا اور اس بات کے دلائل دئے کہ وہ خدا تعالٰی کی توحید کے قائل تھے اس کے بعد ابراہیم کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب حجیت ایک شاخ سے ابراہیمی سلسلہ کی تو تم سوچو کیا یہ شرک کی تعلیم جوڑ میں بھی پائی جاتی تھی یا نہیں۔جب ابراہیم جس کی تم ایک شاخ ہو موحد تھا تو اس کی نسل کا ایک فرد شرک کو قائم کرنے والا کس طرح ہوگیا۔۔۔انبیاء کی ترتیب کے بارے میں یہ وہ علم ہے جو خدا تعالیٰ نے صرف مجھے ہی عطا فرمایا ہے۔چنانچہ تیرہ سو سال میں جس قدر تفاسیر لکھی گئی ہیں اُن میں سے کسی تفسیر میں بھی یہ مضمون بیان نہیں کیا گیا اور کوئی نہیں بتاتا کہ نبیوں کا ذکر کرتے وقت یہ عجیب ترتیب کیوں اختیار کی گئی ہے صرف مجھ پر خدا تعالیٰ نے اس نکتہ کو کھولا ہے جس سے اس ترتیب کی حکمت اور اہمیت بالکل واضح ہو جاتی ہے اسے تیسری مثال :- قرآن میں ہے :- جعل لكم السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔(نحل: 9) تفسیر کبیر جلد ۴ ص۲۶۴۰۲۶۳