کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 48 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 48

۴۸ عبادات ہیں تو ان کی ہر شاخ اس میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔معاملات ہیں تو ان کی ہر شاخ اس میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔علم الاخلاق تمدن سیاست اقتصادیات پیش گوئیاں۔الہیات تصوف علم المحاد علم کلام اور ان سب علوم کے فلسفے او تفصیلات قرآن کریم میں موجود ہیں اور ایسے کامل طور پر موجود ہیں کہ اس کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔چوتھی خصوصیت فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کے ماتحت یہ ہے کہ اس کا سایہ وسیع ہو یعنی وہ ہر فطرت کے انسانوں کے لئے نستی دینے کا موجب ہو۔قرآن کریم میں یہ صفت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔کسی طبعی تقاضے کو ضائع نہیں کیا گیا۔گھلا نہیں گیا۔چو بھی علامت شجرہ طیبہ کی یہ تائی گئی تھی کہ ہر آن اپنے پھل دیتا ہے۔ایک تو یہ خصوصیت معلوم ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ پھل دیتا ہے یعنی اس میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو اس کی اعلیٰ تعلیم کے مظہر ہوں۔یہ خاصیت بھی قرآن کریم میں پائی جاتی ہے بلکہ اس وقت صرف اس میں پائی جاتی ہے۔یعنی اس پر عمل کرنے والے لوگ اس کے ذریعہ سے ایسے اعلیٰ مقامات تک پہنچتے ہیں کہ گویا وہ مجتم قرآن ہو جاتے ہیں۔دوسری خصوصیت توت اكلها كل حنین کے ماتحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ دائمی نجات دے۔اس دعوتی میں بھی قرآن کریم