کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 45 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 45

اس کی علمبی ہو جس قدر چڑھیں مضبوط ہوں درخت لمبی عمر باتا ہے قرآن کریم پر تیرہ سو سال گذر چکے ہیں اب تک اس کی تعلیم قابل عمل ہے اور قابل عمل رہے گی۔بلکہ جو لوگ اسے چھوڑ رہے تھے اب پھر اس کی تعلیم کی طرف واپس آرہے ہیں۔یورپین تہذیب کے دلدادہ آب پھر اس کی ظاہری خوبصورتی کا تلخ تجربہ کر لینے کے بعد دوبارہ قرآن کریم کی ٹھوس تعلیم کی خوبی کے قائل ہو رہے ہیں۔سٹور کی حرمت، سٹراب کی ممانعت ، کثرت ازدواج کی اجازت ، طلاق، عورت اور مرد کے اختلاط میں حزم و احتیاط، ورثہ وغیرہ بیسیوں امور ہیں کہ جن میں قرآنی اصول کی برتری کو دنیا پھر تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہی ہے اور اس طرح قرآن کی عمر جو ہمارے نز دیک تو تا قیامت ہے دشمنوں کے نزدیک بھی لمبی ہوتی نظر آتی ہے۔پانچویں خصوصیت مضبوط جڑھوں والے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ وہ اچھی مٹی میں اگتا ہے اسی طرح کلام الہی اپنے حسن کو تبھی ظاہر کر سکتا ہے جید ایسی قوم اس کی حامل ہو تو اس سے مناسبت رکھتی ہو اور اسے اپنے دلوں میں جگہ دینے کو تیار ہو۔اس کی طرف قرآن کریم میں یہ کہ کر اشارہ کیا گیا ہے وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر و کوع ۲ عمل صالح ایمان کو ترقی دیتا ہے، یعنی درخت تو ایمان ۲) ہے لیکن وہ عمل صالح کے بغیر پڑھتا نہیں۔