کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 44 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 44

لا يَمَة إِلَّا الْمُطَوون یعنی اس کلام کو سوائے اُن کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ہو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے (و اقعد است) مضبوط جڑوں والے درخت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ صدمات سے جھکتا نہیں۔حوادث کا مقابلہ مضبوطی سے کرتا ہے۔کلام وہی مضبوط جڑھ والا کہلا سکتا ہے جو ہر زمانہ کے ماندہ اعتراضوں کی برداشت کرسکے اور ان کا ہو اب اس کے اندر موجود ہو قرآن کریم میں یہ خوبی بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔اس کے اصول ایسے واضح ہیں کہ اس کے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا نہ اسے بہلانے کی کسی کو اجازت ہے اور نہ خود اس کے اپنے الفاظ اس کے معانی کو بدلنے کی اجازت دیتے ہیں۔اسی طرح روحانی طور پر بھی ممکن نہیں کہ قرآن کریم کے بعض ٹکڑوں کو کوئی اختیار گر سے اور بعض کو چھوڑ دے۔اسی طرح یہ امر بھی ثابت ہے کہ قرآن کریم تبدیلی زمانہ سے متاثر نہیں ہوتا۔کوئی علم نکلے، کوئی ایجاد ہو اسکی تعلیم پر کوئی حملہ نہیں ہوسکتا۔تیسری خصوصیت مضبوط جڑھ والے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی جگہ کو چھوڑتا نہیں۔یہ معنے بھی قرآن کریم میں بعد بعد اعلی پائے جاتے ہیں۔قرآن کریم کے اصول ایسے پختہ ہیں کہ وہ کبھی بلد سلتے نہیں۔تھی خصوصیت مضبوط جڑھ کے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ