کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 43
ایک باغ ہے جس کے پھلوں کا خاتمہ نہیں۔آج تک اسکے حسن کو دیکھ کر لوگ یہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ یہ کلام بہت سے لوگوں نے مل کر بنایا ہے مگر کیا ؟ یہ خود اقرار حسن نہیں !! دوسری علامت کا ہر طبقہ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اصلها ثابت اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی علامت کی تشریح میں میں نے چھ باتیں بتائی تھیں جن کو اگر قرآن کریم کے متعلق دیکھا جائے تو وہ سب کی عرب اس میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔اقول : قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے یعنی جس طرح زندہ درخت جس کی بڑھیں زمین میں پھیلی کہ ہر وقت غذا لے رہی ہوتی ہیں تازہ رہتا ہے اسی طرح قرآن کریم کی تازگی قائم ہے اور ہر وقت تازہ معانی اس سے ملتے ہیں۔تیرہ سو سال سے لوگ اس کی تفاسیر لکھ رہے ہیں اور بعض نے تو سو سو جلدوں کی تفسیریں لکھی ہیں مگر با وجود اس کے تمام مطالب ختم نہیں ہوئے آپ بھی اس ہیں سے نئے نئے مطالب نکل رہے ہیں جس طرح درخت بظا ہر وہی نظر آتا ہے لیکن اس کے اندر تازہ رس حیات کا زمین سے آتا رہتا ہے اسی طرح کلام وہی رہتا ہے لیکن اس کے تازہ مطالب حسب ضرورت گھلتے رہتے ہیں اور ان کی طرف ذہن کا پھر انا اللہ تعالے اپنے اختیار میں رکھتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جہ