کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 42
طور پر استعمال کیا گیا تھا اس نے ظاہر کر دیا کو شر کا متفقہ فید تھا کہ قرآن کریم کا حسن انسانی قوت تخلیق سے بالا تھا۔انسانی دماغ نے بہتر سے بہتر ادبی مقالات بنائے تھے مگر اس جگہ اسے اپنے بیجز کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔سبحان اللَّهِ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ اس کے مضامین کا بھی یہی حال ہے۔ان کی بلندی، ان کی وسعت، ان کی ہمہ گیری ، ان کا انسانی دماغ کے گوشوں کو منتوبه کر دیا، انسانی قلوب کی گہرائیوں میں داخل ہو جانا، نرمی پیدا کرنا تو اس قدر کہ فرعونیت کے ستونوں پر لرزہ طاری ہو جائے، جرات پیدا کرنا تو اس حد تک کہ بنی اسرائیل کے قلوب بھی ابراہیمی ایمان محسوس کرنے لگیں، عضو کو بیان کرتے تو اس طرح کہ عیسی علیہ السلام بھی انگشت بدنداں ہو جائیں، سفرا کی ضرورت کو ظاہر کرے تو اس طرح کہ موسی کی روح بھی حال علی کہہ اُٹھے۔مرض بغیر اس کے مضامین کی تفاصیل میں پڑنے کے ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ ایک سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں۔AL