کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 32 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 32

اور لفظ رب اور لفظ عالمین دونوں اپنے اندر امتیازی شان رکھتے ہیں۔رب صرف اس مضمون پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ نہایت ہی مناسب طور پر انسان کی باریک دربار یک قوتوں اور طاقتوں کو درجہ بدرجہ اور مناسب حال ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور عالمین کا لفظ محض زمین و آسمان پر دلالت نہیں کرتا بلکہ زمین و آسماں کے علاوہ مختلف اصناف کی مختلف کیفیتوں پر بھی دلالت کرتا ہے اور یہ مضمون پہلی کتب میں بالکل بیان نہیں ہوا۔مثلاً عالمین میں جہاں یہ مراد ہے کہ اِس جہان کا بھی رب ہے اگلے جہان کا بھی رب ہے۔آسمانوں کا بھی رب ہے زمینوں کا بھی رب ہے۔وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم اجسام اور عالم ارواح اور عالم نساء اور عالم رجال پھر عالیہ منکر اور عالم شعور اور عالیم تصور اور عالیم تقدیر اور عالمیم عقل ان سب کا بھی وہی رب ہے یعنی وہ صرف روٹی ہی مہیا نہیں کرتا وہ صرف انہی چیزوں کو مہیا نہیں کرتا جو جسموں کو پالنے والی ہیں بلکہ وہ ارواح کے پالنے کا بھی سامان کرتا ہے اور پھر مختلف تقاضے جو انسان کی فطرت میں پائے جاتے ہیں اُن میں سے ہر ایک کی نشو ونما کے لئے اس نے قرآن کریم میں تعلیم دی ہے چنا نچہ اس قسم کے مضمون پر یکی تفصیل لیکچر ان کے سامنے دے