کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 14
۱۴ دہلوی نے الفوز الکبیرہ میں اور حضرت حافظ عبد العزیز الفراروی نے ابتراشی میں اسی نظریہ کو پیش کیا ہے۔راسی طرح بلند پایہ مفترین میں سے حضرت علامہ ابو القاسم جار اللہ محمود بن عمر زمخشری ، حضرت شہاب الدین احمد خائی اور ممتاز تر کی عالم حضرت الشیخ اسماعیل حقی البروشی نے اپنی تفسیروں میں مظہرین سے مراد امیت کے صاحب وحی و الہام بزرگ ہی لئے ہیں۔تاریخ اسلام ان بے شمار صلحائے امت کے ایمان افروز واقعات سے لبریز ہے جنہیں معلیم حقیقی کی طرف سے حقائق قرآنی سکھلائے گئے۔حضرت ابویزید بسطامی د جن کا شمار تیسری صدی ہجری کے سب سے زیادہ مشہور صوفیاء میں ہوتا ہے، فرمایا کرتے تھے اخدم علتَكُمْ مَنَا عَنْ مةٍ وَاخَذْنَا عِلْنَا عَنِ الحَي الذي لا يموت تم نے اپنا علم يَمُوتُ مُردہ سے مردہ ہی کے واسطے لیا ہے اور ہم نے اپنا علم اس حتی وقیوم سے لیا له ولادت ۱۱۴ د وفات ۱۱۷۶ هو سے اردو ترجمہ مطبوعہ دہلی مشه سے متوفی ۱۲۳۹ھ شه ولادت ۴۶۷ هو وفات ۵۳۸ هر کشان جلد ۳ ص ۱۶ ن متوفی ۱۰۰۰ در حاشیه الشباب علی البیضاوی جلد ، منٹو که دزمانه باد هوی صدی تفسیر روح البیان جلد ؟ نے الیواقیت والجواہر للشعرانی جلد احدث ؟ 1