کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 147
۱۴۷ معارف و حقائق کا حامل ہے۔یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے کھلا ہے۔یہ ابو بکرہ کے لئے بھی کھلا تھا۔یہ ٹر کے لئے بھی کھلا تھا۔یہ عثمان کے لئے بھی کھلا تھا یہ علی کے لئے بھی کھلا تھا۔یہ بعد میں آنے والے ہزاروں اولیاء و صلحاء کے لئے بھی کھلا تھا اور آج جبکہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی کھلا ہے بلکہ جس طرح دنیوی علوم میں آج کل زیادتی ہو رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آجکل نئے سے نئے نکل رہتے ہیں مانا اے نیز فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں بڑے بڑے علم والے لوگ پیدا کئے ہیں مگر کوئی نہیں کر سکتا کہ یکی نے سارا علیم قرآن حاصل کر لیا ہے یکی بھی جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بے شمار معارف کھولے ہیں نہیں کر سکتا کہ قرآن کریم کا سارا علم میں نے حاصل کر لیا ہے۔اگر ایسا ہوتا کہ کوئی شخص اس کے تمام معارف سمجھ لیتا تو قیامت آجاتی کیونکہ قرآن کریم قیامت تک کے لئے ہے اور اس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں۔جب اِس میں سے نئے نئے مضامین نکلنے ه سیر روحانی جلد اول صفحه ۱۱۱۷۶۱۱۶