کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 138
۱۳۸ کھلے اُفق پر دیکھا ہے اور آپ غیب کی خبریں بتانے میں ہر گز بخیل نہیں۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اخبار غیبیہ سے نوازا جو ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں پر مشتمل ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ :۔كِتَابُ اللهِ فِيهِ نَبَأُ مَنْ قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَنْ بَعَدَكُمْ۔۔۔وَلَا تنقضي عجائبة له یا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تم سے پہلے اور بعد کی خبریں موجود ہیں اور اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حقیقت افروز فرمان ہر مفسر اور مورخ کیلئے قیامت یک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ شرف اور سعادت بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کے لئے ازل سے رکھی تھی کہ قرآن مجید سے تاریخ اسلام کے ہر اہم موڑ کے لئے کلام اللہ میں جو پہلے سے خبریں موجود ہیں یا جن کا واقعات عالم کے ساتھ گھرا تعلق ہے ان کو قرآن مجید سے منکشف کر دیکھائیں۔حضور نے اس سلسلہ میں قرآن سے جو تاریخی انکشافات فرمائے وہ نہایت درجہ حیرت انگیز ہیں۔یہ بات دوس مفترین سے یکسر او جھل رہی اور انہوں نے مستقبل سے متعلق تمام قرآنی پیشگوئیوں کو یا قیامت پر چسپاں کر دیا یا گذشتہ واقعات پر مگر حضرت الصلح الموعود نے اپنی كنز العمال في سنن الاقوال والأفعال - 19 للعلامة علاء الدين على المتقى۔