کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 135
۱۳۵ سے تو پتہ لگتا ہے کہ سات سو من تک پیداوار ہو سکتی ہے۔وہ یہ شنکر بالکل گھبرا گیا اور کہنے لگا قرآن کریم میں یہ لکھا ہے !! ؟ یکس نے کہا ہاں ! قرآن میں ذکر ہے۔کہنے لگا پھر مجھے وہ آیت لکھوا دیں۔چنانچہ میں نے اپنے سیکر ٹری کو بلا کر کہا کہ یہ آیت اسے لکھ کر دے دیں۔وہ کہنے لگا مجھے اس کا بالکل علم نہیں تھا یہ تو بالکل نیا علم ہے اور ابھی ہند وستان میں شروع بھی نہیں ہوا ایک پہلا آدمی ہوں جس نے اس کی تحقیقات شروع کی ہے اور یورپ کی سٹڈی (STUDY) کر کے مجھے اس کام پر مقرر کیا گیا ہے۔میں نے کہا سات سو من ہی نہیں قرآن کہتا ہے وَاللهُ يُضَاعِفُ لمن يشاء اللہ تعالیٰ چاہے تو سات سو سے بھی بڑھاوے۔کہتے لگا میری تحقیقات اس وقت تک صرف اتنی ہی ہے کہ ہما رے ملک میں اتنے کیمیاوی اجزاء موجود ہیں کہ فی ایکٹر اڑھائی سومن تک گندم پیدا ہو سکتی ہے مگر جو باہر کی کتابیں ہیں نے پڑھی ہیں اُن سے چار سو من تک پتہ چلتا ہے۔میں نے کہا پھر ان کتابوں سے بھی بڑھ کر قرآن کریم میں علم موجود ہے قرآن کہتا ہے کہ فی ایکٹر سات سومین تک گندم ہوسکتی ہے ؛ لے الغرض جہاں تک فلسفہ اور تحقیقات جدیدہ کے مقابل پر قرآنی عظمت کے قیام لے سیر روحانی جلد سوم صفحه ۶۶۷۶۵ به