کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 105 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 105

میں تذکرہ نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہی برائیاں لوگوں میں کثرت کے ساتھ پھیل جائیں گی یا لے واد ابلة الأطفال منكم الحلم فليستأذنوا (النور: ٢٢٠ آیت کریمہ حضور کے نزدیک تاریخ کا ایک عبرتناک ورق ہے۔فرماتے ہیں ور اسی طرح اس آیت میں پیش گوئی بھی پائی جاتی ہے کہ جب مسلمانوں کو قومی طور پر غلبہ حاصل ہو گا تو غلاموں کا رواج اُن میں بڑھ جائے گا چنانچہ اندلس اور بغداد میں زیادہ تر کام غلاموں سے ہی لیا گیا اور یہی مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوا۔لیکن سمجھتا ہوں کہ اس آیت کے مضمون کو گھر یلو مضمون نہ سمجھا جاتا بلکہ یہ مجھا جاتا کہ یہ آیت چونکہ خلافت کے ذکر کے بعد آئی ہے اس لئے اس میں کوئی قومی مضمون بیان ہوا ہے۔تو مسلمان اپنے کمزوری کے وقتوں میں اور زیادہ ہوشیار ہو جاتے جیسا کہ حضرت عثمان اور حضرت علی ہے کے آخری ایام ہیں۔اور کسی غیر کو خواہ کتنا ہی بے ضر نظر آتا اپنے نظام کے پاس پھٹکنے نہ دیتے۔اگر وہ ایسا کرتے تو نہ حضرت عثمان کی شہادت ہوتی اور نہ حضرت علی کی۔۔۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اپنی طاقت کے زمانہ میں اس له تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ اول ص ۲۷