کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 104
۱۰۴ نے غلطی سے یہ بجھا ہے کہ یہ آدم کی جنت کی تفصیل ہے لیکن یہ جنت کی تفصیل نہیں ہو سکتی بھو کے پیاسے تو د رند سے بھی نہیں رہتے اور نہ وہ دھوپ میں پہنتے ہیں یہ امور تو اسی دنیا میں جانوروں تک کو میسر ہیں پس یہ جنت کی تفصیل نہیں آدم کے تمدن کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور پہلی انسانی سوسائٹی کو بتایا گیا ہے کہ ایک جگہ رہنے سہنے کے نتیجے میں بعض دفعہ ایک حصہ آبادی کا خوراک حیا نہیں کر سکتا یا لباس مہیا نہیں کر سکتا۔پیس جہاں تم کو تمدن کی برکات سے حصہ دیا جاتا ہے وہاں اس کی خرابیوں کو دور کرنے کا خیال رکھنا بھی تمہارا فرض ہے لالے (19) آیت اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ ( النور : ٢٠) كا ذكر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔ور اس آیت میں خدا تعالیٰ نے علم النفس کا ایک ایسا نکتہ بیان کیا جو قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہے کیونکہ علم النفس کی تحقیق پہلے زمانے میں نہیں ہوئی تھی۔یہ پہلے تحقیق انیسویں صدی میں شروع ہوئی اور اب انیسویں صدی ہیں اس نے ایک علم کی صورت اختیار کی ہے۔وہ مسئلہ جو قرآن کریم نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ بری باتوں کا مجالس تفسیر کبیر جلد اول جز اول من ؟