کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 103
۱۰۳ در مجمع البحرین سے مراد در حقیقت وہ زمانہ تھا جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ختم ہوا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شروع ہوا۔یعنی وہ گھڑی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلا الهام نبوت ہوا مجمع البحرین تھی۔وہاں موسی جو ایک روحانی عادل شفیق اور دنیا کے لئے ضروری بادشاہ تھے ان کا علاقہ ختم ہوتا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اور بھی بڑے روحانی سمند رتھے ان کا زمانہ شروع ہوتا تھا۔حضرت موسی علیہ السلام کو کشف میں دو بڑے سمندروں کے ملنے کا مقام دکھا کر گویا یہ بتایا گیا کہ اس زمانہ تک آپ کی اُمت کا زمانہ ہے آگے ایک اور سمند ر سشروع ہوتا ہے آپ کا زمانہ ختم ہو کہ اس نئے نبی کا کام شروع ہوگا اور وہی شخص روحانی زندگی کا سامان حاصل کر سکے گا جو اس سمندر میں غوطہ لگائے گا رہے ۱۵) فرمایا : و الله لك الا تجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعُواىهُ وَانَّكَ لَا تَطْمَوا فيها ولا تضحي و (طلاع ) یعنی اے آدم جس مقام پر ہم تم کو رکھنے لگے ہیں اس میں تمہارا فرض ہوگا کہ بھوکے نہ رہو اور نہ نکلے رہو اور پیا سے نہ رہو اور دھوپ کی تکلیف نہ اُٹھاؤ بعض لوگوں ے تفسیر کبیر جلد سوم من