کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 102
آیت قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ الكَلِمَتِ رَي (كهف : ۱۱۰) سے مغربی اقوام کی ایجادات کا استدلال و استنباط حضرت مصلح موعود کے بلند روحانی مقام پر برہان ہے۔فرماتے ہیں :۔وہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے یہ یہ ایجادات کی ہیں اور اتنے علوم دریافت کئے ہیں اور کائنات کا راز دریافت کرنے کے قریب ہیں۔فرماتا ہے اسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو ان سے کہہ دے (یعنی اس زمانہ کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اُن سے یوں کہ دیں، کہ تمہارا راز کائنات کو دریافت کرنے کی کوشش کرنا ہمیشہ روز اول ہی رہے گا اور با وجود اس قدر کوششوں کے تم کو بہو کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں کھڑے رہو گے اور وہ قوتیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں پیدا کی ہیں ان میں اس قدر بھی دریافت نہ کر سکو گے جس قدر سمندر کے مقابل پر ایک قطرہ کی حیثیت ہوتی ہے۔ر اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ تصانیف کا زمانہ ہو گا اور یہ قو میں سائنس پر کثرت سے کتابیں لکھیں گی یا اے (۱۳) مجمع البحرين (كف : ۵۶) کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ے تفسیر کبیر جلد سوم صفحہ ۱۰۰۷ 4