کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 79
49 جب میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو کوئی آیت سوائے سورۂ فاتحہ کے میری زبان پر ہی نہ آئے۔آخر کس نے خیال کیا کہ میرا امتحان ہونے لگا ہے اور مجھے مجبوراً سورہ فاتحہ پڑھنی پڑی۔اسکے متعلق کوئی بات میرے ذہن میں نہ تھی میں نے یونہی پڑھی لیکن پڑھنے کے بعد فورا میرے دل میں ایک نیا نکتہ ڈالا گیا اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب سورۂ فاتحہ اتری ہے اُس وقت آپ کے مخاطب کفار تھے یہودی اور عیسائی نہ تھے مگر دعا اس میں یہ سکھائی گئی ہے کہ ہمیں یہودی اور عیسائی بننے سے بچا کہ ہم ان کی طرح نہ بنیں۔حالانکہ چاہیئے یہ تھا کہ جو سامنے تھے انکے متعلق دعا سکھائی جاتی کہ ہم ان کی طرح نہ بنیں۔اس میں یہ نکتہ ہے کہ مشرکین نے چونکہ تباہ و برباد ہو جانا تھا اور بالکل مٹائے جانا تھا اس لئے ان کے متعلق دعا کی ضرورت نہ تھی لیکن عیسائیوں اور یہودیوں نے چونکہ قیامت تک رہنا تھا اس لئے ان کے متعلق دعا سکھائی گئی۔یہ نکتہ مگا مجھے سمجھایا گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکر یا دا کیا کہ اس موقعہ پر اُس نے میری آبرو رکھ لی۔تو یہ علم جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھایا جاتا ہے ہمیشہ ضرورت کے وقت کام آتا ہے اور اس کی یاد نہ رہنے میں یہ حکمت ہے کہ اگر بات یا د رہتی تو ایک ہی دفعہ کے لئے ہوتی مگر اس طرح یہ