کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 24
: ۲۴ شاندار اسلامی لٹریچر پیدا کیا۔ہزاروں بصیرت افروز تقاریر فرمائیں اور خطبات ارشاد فرمائے جن کا مرکزی نقطہ قرآن مجید ہی تھا۔معرفت کا یہ لازوال اور بیش بہا خزانہ سلسلہ کے اخبارات میں بہت حد تک محفوظ ہے اور کتابی صورت میں بھی منظر عام پر آچکا ہے۔علاوہ ازیں حضور کے قلم مبارک سے قرآن مجید کی بہت سی معرکہ آراء اور ایمان افروز تفاسیر شائع ہوئیں۔مثلاً پہلے پارہ کی نادر تفسیر "حقائق القرآن" " درس القرآن" "معارف القرآن تفسیر کبیر اور "تفسیر سیر صغیر ان میں سے ہر تفسیر تنتقل امتیازی شان اور کئی خصوصیات کھتی ہے خصوصاً تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر جسے علم تفسیر کا شاہکار کہا جائے " تو مبالغہ نہ ہوگا۔تفسیر کبیر زیاده تر آن درسوں یا تفسیری نوٹوں پرمشتمل ہے جو حضور نے قادیان، ڈاموزی ، کوئٹہ اور ربوہ میں دئے۔اس عظیم الشان تفسیر کی ۱۱ (گیارہ جلدیں اور شکل صفحات قریباً ۵۰۰ ہیں اور تفسیر کا پہلا ایڈیشن ۱۳۵۴ صفحات پر محیط ہے۔اس طرح تفسیر کبیر و تفسیر صغیر کے صفحات کی مجموعی تعداد تقریباً ۷۲۶۰ تک جا پہنچتی ہے۔حضرت سید نامحمود المصلح الموعود نوراللہ مرقدہ کی ذات بابرکات سے مرتبہ کلام اللہ کا اظہار کس شان سے ہوا اور اس اصیل تاباں اور مہر درخشاں کی کر نہیں کسی طرح ہزار ہا پہلوؤں سے افق عالم پر چمکیں ؟؟ اس کی تفصیل کیلئے تو ایک دفتر درکار ہے۔بچے سفینہ چاہئیے اس بحر بیکراں کے لئے