کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 21
۲۱ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اسلام کیا نعمت عظمی ہے اور قرآن شریف کیا دولت ہے اور دین محمدی کیا صداقت ہے کیا لے حضرت اقدس کے قلب صافی میں عشق قرآن اور انوار قرآنی سمندر کی طرح موجودن تھے۔آپ کی باطنی کیفیت کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کے عارفانہ کلام میں سے صرف دو شعر کافی ہیں :۔(۱) (۲) جمال و حسین قرآن نو یہ جان ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے تے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے کے آپ کی سب سے بڑی دلی تمنا یہ تھی کہ قرآن عظیم کا خوبصورت اور خدا نما چہر مشرقی اور مغربی دنیا پر پوری طرح آشکارا ہو جائے جیسا کہ فرماتے ہیں :۔صد بار رقص با کنم از خرمی اگر بینم که حسن دلکش فرقاں عیاں نماند یعنی یکی خوشی کے مارے سینکڑوں دفعہ رقص کروں اگر یہ دیکھ لوں کہ مشر آن کا نے " تاثرات قادیان صفحه ۶۳ ۶۸ (مرتبه ملک فضل حسین صاحب) + نے براہین احمدیہ حصہ سوم م ب نے قادیان کے آریہ اور ہم" من : ۱۸ :