کلامِ ظفرؔ — Page 180
کلام ظفر (344) کلام ظفر 343 ۴ يَا مَعْشَرَ الْإِسْلَامِ بُشْرَى إِنَّهُ آے مسلمانو! بشارت ہو تمہیں قد جَاءَ وَقْتُ عُلُوكُمْ وَتَبَابِهِمُ اب تمہیں عزت ملے گی دوستو! ذلّت اُنہیں هَلْ هَذِهِ الْأَحْزَابُ تُهزَمُ كُلُّهَا: ہار جائیں گے یہ لشکر کیا سبھی؟ قُل إى وَرَبِّي جَاءَ وَقْتُ حِسَابِهِمْ ہاں خُدا شاہد ہے میں ہو گا یہی فِي رَجُلٍ مُتَكَبِّرٍ سَبَ اِمَا مَنَا ایک متکبر شخص کے بارہ میں جس نے ہمارے امام کو گالی دی) يَا أَيُّهَا الْعَبْدُ الضَّعِيفُ الْاَحْقَرُ القَبْرُ مَثْوَاكَ فَلِمَ تَتَكَبَرُ اے کمزور اور حقیر ترین بندے! قبر تیرا ٹھکانا ہے۔پھر تو کیوں تکبر کرتا ہے؟ الكبرُ عِنْدَ الْعَاقِلِينَ سَفَاهَةٌ مَنْ كَانَ ذَا لُةٍ فَلَا يَتَكَبَرُ تکبر کرنا عقل مندوں کے نزدیک حماقت ہے۔عقلمند کبھی تکبر نہیں کرتا۔مَنْ كَانَ ذَا لُكٍ يَكْفُ لِسَانَهُ يَا رَبِّ سَلِّمْنَا بِوَجْهِ محمد ہم کو بچا گوئی سے کام لیتا ہے۔مصطفی محمد ظالموں کے ظلم يَا رَبِّ نَحَ الْخَلْقَ مِنْ قِرْضَابِهِم خداوند فَلا يُؤْذِي إِنْسَانًا وَلَا يَتَثَرُثَرُ عقل مند اپنی زبان قابو میں رکھتا ہے۔نہ تو کسی انسان کا دل دُکھاتا ہے اور نہ ہی یا وہ