کلامِ ظفرؔ — Page 118
219 کلا ظفر تگو ملے یا نہ ملے یہ تو ہے تقدیر کی بات تیری تصویر سے دل شاد کروں یا نہ کروں چشم اغیار سے چُھپ چُھپ کے کہیں رو رو کر دل افسردہ کی امداد کروں یا نہ کروں میں تو ہر لمحہ تجھے یاد کئے جاتا ہوں یونہی کہتا ہوں تجھے یاد کروں یا نہ کروں یاد میں اُس کی جو شیریں سے بھی شیریں ہے ظفر زندہ پھر قصہ فرہاد کروں یا نہ کروں روزنامه الفضل 19 جنوری 2000، صفحہ 2) نوٹ : مولانا کی یہ واحد غزل ہے جو آپ نے اپنے قیام کراچی کے دوران 28 ستمبر 1966ء کو لکھی۔220 کلام ظفر ورثة داؤد دوستو! ہم کو خلیفہ ہے ذیشان ملا وہ مبدء فيض ہر اک جسے فیضان ملا عیسوی شان لئے یوسف کنعان میلا حکم یحیی کو کو لئے لئے فہم سلیمان میلا حسن و احسان میں احمد محمود ہے میلا این داؤد کو ہے ورثه داود میلا (ماہنامہ خالد مارچ 1955ء خلافت نمبر صفحہ 37)