کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 114 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 114

211 تیغ و تفنگ و توپ سے ٹھانی ہے جنگ کی اور حال یہ کہ ہاتھ میں تلوار بھی نہیں کلام ظفر محمود آج ان کی ہے کشتی ڈبو رہا افسوس ان میں کوئی سمجھدار بھی نہیں یہ قول اس کا سُن کے کہا میں نے بس خموش تجھ میں تو کچھ سلیقہ گفتار بھی نہیں یہ کیا کہا کہ حامی ہمارا نہیں کوئی دیوانہ تو نہیں تو ہشیار بھی نہیں ہے ناداں ہماری پشت وہ بادشاہ ہے دنیا یہ جس کے وار کی اک مار بھی نہیں احرار چیز کیا ہیں خُدا کی قسم مجھے بچ سکتی اس کے وار سے سرکار بھی نہیں تیغ و تفنگ و توپ سب اس کے غلام ہیں تلوار کیا ڈراتی ہمیں نار بھی نہیں 212 کلام ظفر اسباب دنیوی ہماری نہیں نظر سامان ظاہری کے طلب گار بھی نہیں صرف اس خدائے پاک پہ اپنی نگاہ ہے جس سا جہاں میں کوئی وفادار بھی نہیں محمود کا کمال سیاست یہی تو ہے لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں روزنامه الفضل قادیان 7 1 نومبر 1935ء صفحہ 5)