کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 113 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 113

(209 کلام ظفر محبت نہ نہ ہو جب پاس تو پھر اور کریں کیا ہے ہر اک ڈوبتا تنکوں کے سہارے لیتا اپنی مجبور ہیں مجبور ہیں حرکات سے اغیار کے ہاتھوں میں ہیں جب ان کے گزارے جب دیکھتے ہیں تم کو تو کہتے ہیں مسلماں احراریو! ہم دیر سے واقف ہیں تمہارے جو لوگ ظفر کرتے ہیں توہین محمد اللہ انہیں قعر مذلت میں اتارے روزنامه الفضل 27 جنوری 1950 ء صفحہ 2) 210 کلام ظفر احرار کی باطل توقعات کا مؤمنانہ جواب کل مجھ سے ایک لیڈر احرار نے کہا آساں نہیں ہے فتح تو دشوار بھی نہیں پنجاب کے ہیں احمدی چھپن ہزار گل پھر لطف یہ کہ واقف پیکار بھی نہیں احرار ہند ان کے مقابل کروڑہا ان میں تمیز اندک بسیار بھی نہیں و سارے جہاں کی قوموں سے ہے ان کی چپقلش ان سر پھروں کا کوئی مددگار بھی نہیں سرکار جس کے کھونٹے یہ سب ان کا ناچ تھا حامی رہی اب ان کی وہ سرکار بھی نہیں ناداں بگاڑ بیٹھے ہیں حکام وقت سے پہچانتے زمانے کی رفتار بھی نہیں