کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 183 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 183

349 في ذكرى کلام ظفر مَوْلَانَا جَلالُ الدِّين شمس المرحوم جَلالَ الدِّينِ يَا بَدِي وَشَمسِی احَقًا قَد أَفَلْتَ فَدَتُكَ نَفْسِي اے جلال الدین! اے میرے مہر و ماہ! کیا سچ سچ تو غروب ہو گیا ہے۔میں تیرے قربان جاؤں۔بِنُورِك قَدْ آنَرْتَ الْعَالَمِينَ فَكَيْفَ سَكَنتَ فِي ظُلُمَاتِ رَمس تُو نے اپنے ٹور سے دُنیا کو روشن کیا۔اب تو قبر کی ظلمت میں کیونکر جا ٹھہرا۔على الاعداء قُمْتَ مَقَامَ سَيْفٍ وَلِلْإِسْلَامِ نُبُتَ مَنَابَ تُرس دشمنوں کے مقابل تو ایک تلوار تھا اور اسلام کے لئے تو ایک ڈھال تھا۔350 کلام ظفر وَلَوْ قَبلَ الْحِمَامُ فداءَ نَفْسٍ لقَامَتْ في فِدَائِكَ أَلْفُ نَفْسٍ اگر موت کسی انسان کا فدیہ قبول کرتی تو تیرے فدیے کے لئے ہزارنفس کھڑے ہو جاتے۔يُذكرني طُلُوعُ الشَّمْسِ شَمسا وَاذْكُرُون بِكُلِّ غُرُوبِ شَمْسٍ جب سورج نکلتا ہے تو وہ مجھے سمس ، کو یاد دلاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو بھی۔(ماہنامہ الفرقان شمس نمبر جنوری 1968 ، صفحہ 55)