کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 136 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 136

255 کلام ظفر مانند آفتاب درخشد امام ما ہمارا امام سورج کی طرح چمکتا ہے حضرت خلیفہ امسح الثالث کے 1980ء میں دیار مغرب تشریف لے جانے پر از دست عقل خویش گرفته زمام ما ہم نے اپنی لگام ،اپنی عقل سے لے لی ہے ما ساختیم عِشق و جنون را امام ما ما (کیونکہ) ہم نے عشق و جنون کو اپنا امام بنا لیا ہے یافتیم نُور ز ز انوار مصطفی ہم نے زندگی کے نور کو محمد مصطفی کے انوار سے ہی لیا ہے حسن و جمال ماست زِ خَيرُ الْأَنَامِ ما اور ہمارا حسن و جمال بھی ہمارے اسی خیر الانام سے وابستہ ہے گاهی به سمت شرق گهے در جہاتِ غرب کبھی مشرق کی جانب سے اور کبھی مغرب کے اطراف سے مانند آفتاب دَرَخُشد ما امامٍ ہمارا امام سورج کی مانند چمکتا ہے۔256 کلام ظفر اسلام ماست محسن انسانيت فقط صرف ہمارا مذہب اسلام ہی محسن انسانیت ہے این است بہرِ مشرق و مغرب پیام ما (اور) یہی شرق و غرب کو ہمارا پیغام ہے۔مادر جهان بغض نه داریم با کسے ہمیں اس جہان میں کسی سے کوئی بغض نہیں ہے ہمدردی عوام بنائے نظامِ ما ہمارے نظام کی بنیاد ہی عوام کی ہمدردی ہے۔خواهید گر نجات بیائید سوئے ما اگر تو نجات چاہتا ہے تو ہماری طرف آ اے غافلاں! نجات ببخشد کلام ما اے غافلو! ہمارا پیغام تو نجات بخش ہے ما چشم امتیاز نه داریم اے ظفر؟ اے ظفر ! ہم کوئی امتیاز نہیں رکھتے آشود سَلامِ ما بهد و عام است أبيض ہمارا سلامتی کا پیغام ہر گورے اور کالے کیلئے یکساں اور عام ہے روزنامه الفضل 2 دسمبر 1980 ء صفحہ 2)