کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 137 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 137

257 کلام ظفر 258 کلام ظفر " هرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ،، ذیل کے اشعار برادرم قریشی محمد نذیر صاحب ملتانی مرحوم کی وفات پر انہی کی زبان سے کہے گئے از دست عقلِ خویش گرفته زمام ما ہم نے اپنی لگام، اپنی عقل سے لے لی ہے ما ساختیم عشق و جنون را امام ما (کیونکہ) ہم نے عشق و جنون کو اپنا امام بنا لیا ہے۔ما از جهان شود و زیان در گذشته ایم ہم اس جہان کے سود و زیاں سے ماوراء ہو گئے ہیں چشمِ جہانیاں نشناسد مقامِ ما (اسی لیے ) اہل دنیا کی آنکھ ہمارے مقام کو نہیں پہنچانتی۔صورت نگر ز معنی ما بے خبر رود دنیا دار ہماری حقیقت سے بے خبر جا رہا ہے یک ما آبدار تيغ بدارد نیام حالانکہ ایک تیز دھار تلوار ہماری نیام میں ہے در کاسه حريف بجُز درد بیچ نیست حریف کے کاسہ میں سوائے تلچھٹ کے کچھ نہیں صہبائے پاک و صاف بجو شد به جام ما اور ہمارا جام، مطہر شراب سے چھلک رہا ہے مجروح راه یار مقامِ شہید یافت محبوب کے راستے کا زخمی شہید کا رتبہ پا گیا آمد ہمائے اوج و سعادت به دام ما جبکہ اوج سعادت کا ہما ہمارے قبضے میں ہے ما تیز رو به منزل جاناں رسیده ایم ہم تو تیزی سے سفر طے کر کے محبوب کی منزل تک جا پہنچے ہیں آے شست گام تیز بیا تا مقامِ ما ے ست چلنے والے ہمارے مقام تک پہنچنے کیلئے ذرا تیز دوڑ کے آ اے خوش بختی کی معراج ۲ ایک فرضی پرندہ : اہل فارس میں مشہور ہے کہ ہما ایسا پرندہ ہے کہ جو کسی پر بیٹھ جائے اسے دنیا کی سلطنت و دولت سے نوازتا ہے۔اس لئے اسے شعراء خوش بختی و بلندی مقام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔(مترجم)