کلامِ ظفرؔ — Page 115
213 کلام ظفر (214) کلام ظفر " کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے" ظاہر لباس اصل میں احرار ہو گئے لو آج صاف معني غدار ہو گئے پہلے تو غدر کرتے تھے اسلامیوں سے یہ آج اپنے لیڈروں کے بھی غدار ہو گئے دیکھا جو پیسے مانگتے ”حضرت امیر کو تو جھٹ غریب و مفلس و نادار ہو گئے جب بند ہوتے دیکھی زباں ”ترجمان“ کی روپوش ان کے درہم و دینار ہو گئے تنظیم و اتحاد کے حامی تھے خواب میں جب امتحان آیا تو بیدار ہو گئے اسلامیانِ ہند کے واحد اجاره دار اف کس قدر ہیں مفلس و نادار ہو گئے کرتے دراز ہم پہ تھے کل جو زبانِ طعن ہو گئے وہ آج شرمسارو نگونسار ملا عنایت اور مجاہد ہیں قید میں وو کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے“ روزنامه الفضل 29 مئی 1936ء صفحہ 2) " اے چودھری“ ہے شرم تو راوی میں ڈوب مر احرار تیرے تجھ سے بھی بیزار ہو گئے