کلامِ ظفرؔ — Page 116
(215 سیاحت کشمیر کلام ظفر 216 ہر ذرہ کوہسار ہے اک طور تجلی ہر شجرہ وادی ہے انا اللہ کی حکایت (1938) سنتے تھے بہت دیر سے کشمیر کی شہرت ارمان تھا دل میں کہ کریں ہم بھی سیاحت اس سال خداوند نے توفیق جو بخشی ہر چشمہ شیریں و مصفی کی صدائیں ہر هر غالب و اقبال کو دیتی ہیں یہ دعوت دنیا کی کشاکش سے تم اے بھاگنے والو آجاؤ میرے پہلو میں مونس ہے یہ خلوت کشمیر کے باشندوں کا پر حال نہ پوچھو ہم رخت سفر باندھ کے گھر سے ہوئے رخصت افلاس کے ماروں سے معمور یہ جنت اُڑتی ہوئی گاڑی چلی کشمیر کی جانب موٹر بھی بڑھی شوق سے با سرعت و عجلت پُر لطف ہے پُر کیف ہے کشمیر کا رستہ اشجار کی بالیدگی سبزہ کی طراوت کلام ظفر ماہنامہ خالد جولائی 1956 ، صفحہ 21)