کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 100 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 100

183 کلام ظفر دل بھی اپنا پاک کر اے بندہ حرص و ہوا اب نہیں ہے تو غلام اہل انگلستان تو کیا اب نہیں گردن میں تیری طوق ہندوستاں تو کیا دل بھی اپنا پاک کر اے بندہ حرص و ہوا رکھ لیا اپنے وطن کا نام پاکستاں تو کیا 184 شادماں ہے تو کہ پھولوں سے ہے پر دامن ترا تیری ملت کا اُجڑتا ہے اگر بستاں تو کیا قیمتی پردوں سے ہے آراستہ کوٹھی تری کلف ظفر جھونپڑی میں اک پڑوسن ہے پڑی عریاں تو کیا خندہ زن ہے کفر تیرے دعوای اسلام پر ہاتھ میں اپنے لئے پھرتا ہے تو قرآں تو کیا حکمت و فهم و فراست سے تجھے نسبت ہی کیا دیکھ اپنے آپ کو آئینہ کردار میں خود نمائی میں ہے اپنی ہم سر لقماں تو کیا قوت گفتار پر اپنی ہے تو نازاں تو کیا خدمت انسان میں مضمر ہے شانِ زندگی واعظانہ شان میں اپنی ہے تو ذیشاں تو کیا وو فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں تو اکیلا رہ کے ہے قارون یا ہاماں تو کیا تو مجاہد ہے تو اپنے نفس امارہ کو مار نرغہ اغیار میں ہے ملتِ بیضا تری حلقہ احباب میں ہے تو اگر خنداں تو کیا مارتا پھرتا ہے کمزوروں کو اے ناداں تو کیا کیا ترے من میں بھی ہے خوفِ خدا سچ سچ بتا ناز ہے تجھ کو کہ ہے آباد کے خانہ ترا ہو رہا ہے خانہ اہلِ وطن ویراں تو کیا تن ترا خوفِ خدا سے ہے اگر لرزاں تو کیا