کلامِ ظفرؔ — Page 90
163 کلام ظفر إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ مسلمانو! مسلمانو! ارے بکھرے ہوئے دانو! تمہیں تسبیح وحدت میں پرونے کو امام آیا دھرا کیا ہے تجارت میں ادھر آؤ جماعت میں 164 کلام ظفر تری حجت کے آگے سرنگوں جادو بیاں کافر عصائے موسوی بن کر تیرا علم کلام آیا ہمارے یوسف دوراں ترے دشمن ہوئے اخواں درندہ بھیڑیا بن کر مقابل خاص و عام آیا خریداران یوسف میں ظفر بھی آتو پہنچا ہے مگر افسوس بے چارہ ہے بے دینار و دام آیا لباس احمدیت میں محمد کا غلام آیا (ماہنامہ الفرقان ستمبر، اکتوبر 1958ء صفحہ 8،7 نیز ہفت روزہ بدر قادیان 13 مارچ2002ء مسیح موعود نمبر صفحہ 15) مہ ہندی خور مدنی کا مظہر بن کے تاباں ہے خوشا قسمت! کہ وہ محبوب پھر بالائے بام آیا مُبارک ہو! غلام ساقی کے خانہ میٹرب اُسی کے خانے کی کے سے لئے پر کیف جام آیا سلام اے حضرت احمد ! سلام اے مہدی دَوراں! کہ تُو وہ ہے جسے سرکار یثرب سے سلام آیا