کلامِ ظفرؔ — Page 72
127 کلام ظفر 128 زندگی زندگی اے اسیر مشکلات پیچ و تاب آبتاؤں تجھ کو میں تعبیر خواب زندگی عالم ظاہر کے پیچھے ایک عالم اور ہے در حقیقت اک نقاب زندگی ہے زندگی ہے وجود ذات باری منبع آب بقا مستيز اُس نور سے ہے ماہتاب زندگی مستور ہے علم و دانش سے جمالِ زندگی • عشق پیدا کر کہ اُٹھ جائے جحاب زندگی تو نہ سمجھا ہے نہ سمجھے گا کبھی اے فلسفی چھیڑتے ہیں کس طرح تارِ رُباب زندگی آگے پیچھے دوڑتے ہیں نفع وخسر وعسر ویسر گاه خنداں گاہ گریاں ہے سحاب زندگی دیکھتے ہی دیکھتے ہر نقش جاتا ہے بدل ٹوٹنے بننے میں رہتا ہے حباب زندگی زندگانی کی حقیقت کا اگر جویا ہے تو فلسفہ حائل ہے اس کی رفعت پرواز میں مكتب احمد سے لے درس کتاب زندگی عشق کے پر ہوں تو اُڑتا ہے عقاب زندگی زاہدا! تو انتظار جنت فردا میں ہے گر حریم قدس سے یہ رُوح نامحرم رہی مل رہا ہے نقدیاں اجر و ثواب زندگی تا ابد پیچھا نہ چھوڑے گا عِقاب زندگی کلام ظفر