کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 69 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 69

121 عد بات ظفر کلام ظفر خدا کی رہ میں ذلیل ہونا اور اس کی رہ میں فقیر ہونا 122 کلام ظفر بشارت وصال کی دی کبھی مجھے ہجر سے ڈرایا سمجھ میں آیا ہے اس طرح بھی ترا بشیر و نذیر ہونا مزا تو جب ہے حضور انور کہ دل ہمارا بھی ہو منوّر یہی تو عزت ہے عاشقوں کی یہی ہے ان کا امیر ہونا اگر چہ ہے ہر طرح مسلم تیرا سراج منیر ہونا کٹھن ہے عشق و وفا کی منزل تڑپ رہے ہیں ہزار ہا دل قسم تجھے تیری حُسنِ کامل ذرا مرے دستگیر ہونا وزیر بننے کی مجھ کو خواہش نہ چاہتا ہوں سفیر ہونا مجھے تو بھاتا ہے میرے پیارے ترے ہی در کا فقیر ہونا میری فقیری مجھے امیری، مری گدائی ہے مجھ کو شاہی رہے تمہیں منعمو مبارک! امیر ہونا کبیر ہونا عزیز ہوں گر نگہ میں تیری تو مجھ کو منظور ہے خوشی سے بچشم دنیائے بے حقیقت ذلیل ہونا حقیر ہونا میں دینِ احمد پہ جان و دل سے کروں گا قربان ذرّہ ذرّہ مگر یہ ہے شرط میرے پیارے کہ تو بھی میرا نصیر ہونا اگر نہیں آتشِ محبت تو خاک ہے زندگی کی لذت عجیب نعمت ہے اس جہاں میں ظفر کسی کا اسیر ہونا (ماہنامہ مصباح ستمبر 1951ءصفحہ 9)