کلامِ ظفرؔ — Page 44
71 کلام ظفر نعت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم آؤ درود پڑھ کے کریں اس نبی کی بات ہے جس کی ذات باعث تخلیق کائنات جس کی ضیا سے چھٹ گئیں سے چھٹ گئیں تاریکیاں تمام روئے زمیں چھا گئیں جس کی تجلیات انساں بھٹک رہا تھا کوئی راہبر نہ تھا چھائی ہوئی تھی جہل کی کالی سیاہ رات اکراه و جبر و جور کا دنیا میں دور تھا تھا بے بسوں تنگ ہوا عرصہ حیات اہلِ جہاں تھے حق و صداقت سے بے خبر شخص تھا طلسم تو ہمات ہر اسیر تھا مال و زر ہی باعث اکرام و افتخار سنتا نہ تھا غریب کی کوئی جہاں میں بات 72 کلام ظفر آئے جو آنحضور تو حل ہو گئیں تمام انسانیت کی راہ میں جتنی تھیں مشکلات لاکھوں دلوں کو لوٹ لیا اک نگاہ میں میرے رسول پاک کے کیا کیا ہیں معجزات کیا کم یہ معجزہ ہے کہ خانہ بدوش قوم اُٹھ کر جہاں کو گئی درس النہیات منکر دامن گو زبان مگر مانتے ہیں دل ہے ہے مصطفے کا فقط دامن نجات بادِ بہار بن کے وہ آئے جہان میں سوکھے چمن کا ہو گیا سر سبز پات پات ایسا دیا بشر کو مساوات کا سبق باقی رہی دلوں میں نہ تفریق ذات پات ختم الرسل ہمارے سراج منیر ہیں روشن انہیں کے نور سے ہے ہر نبی کی ذات