کلامِ ظفرؔ — Page 32
47 کلا ظفر 48 کلام ظفر حضرت مصلح موعود کے متعلق بانی جماعت احمدیہ نے جو مفصل پیشگوئی فرمائی ہے اس میں اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا بریکٹ میں آپ نے لکھا ہے کہ اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے۔جماعت کے علماء اور شعراء نے اس کی کئی تو جیہات کی ہیں مگر جو توجیہ استاذی المحترم نے کی ہے اس کا ایک خاص مقام ہے آپ فرماتے ہیں۔پہلے تین تھے ایسے بشر حضرت احمد حق تعالیٰ کی بشارت سے ملے جن کو پسر پدر حضرت ابراہیم اول، دوم بیٹی کے تھی مولیٰ کی نظر سوم مریم محصنہ جس تیری پیدائش نے احمد کو کھڑا ان میں کیا ہیں یہی وہ تین جن کو چار تو نے کر دیا ایک دوست فراق قادیاں میں گر یہ کناں تھے۔استاذی المحترم نے ان کی تسلی کیلئے ایک نظم لکھی اور حسن تعلیل سے انہیں قادیان چھوڑنے کی حکمت سے اس طرح آگاہ کیا کہ بس لطف ہی آ گیا آپ فرماتے ہیں۔ہمارا قادیاں اک بوستاں ہے ہم اس کی بُوئے خوش ہیں اس جہاں میں تو فطرت کے مخالف کہ خوشبو ہے محدود گلستاں میں پراگنده ہوئے ہیں نزدیک پھیلے جہاں میں مرے سمجھا ظفر گر ہوں بہاریں ہیں نگاہیں میں ہی بہاریں ہیں خزاں ایک دفعہ موضع احمد نگر میں کچھ جھگڑا ہو گیا جس میں ایک صاحب کی نوازش سے استاذی المحتر م کو بھی ملوث کر کے حوالات میں بند کرا دیا گیا۔مدتوں بعد آپ کوخلوت نصیب ہوئی آپ نے یہ رات اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتے اور نوافل ادا کرتے گزاری۔اللہ تعالیٰ نے اس شب آپ کو بعض بشارات سے نوازا تو علی الصبح آپ نے اختر شیرانی مرحوم کے انداز میں ایک نظم لکھی اور اس دوست پر طنز کرتے ہوئے لکھا۔۔میرے ہمدم یہ میرے یہ مری تلخی اوقات کی رات لئے عین عنایات کی رات بن گئی محتسب پاتا اگر آج برکات کی رات ضبط کر لیتا ظفر تیری حوالات کی رات جامعہ کے طلباء کو آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو وہ موت کے مترادف ہے آپ فرماتے ہیں۔لیکن وہ علم موت ہے جس میں عمل نہ ہو نکته رہے یاد عزیزان جامعه دنیا میں ہر انسان کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں جن کی تعمیل کیلئے وہ مسلسل مصروف جدوجہد رہتا ہے۔کوئی سخن دان، کوئی سحبان ، کوئی نعمان اور کوئی رستم زماں بنا چاہتا ہے، استاذی المحترم بھی اپنے دل میں ایک آرزو رکھتے تھے اور وہ آرزو یہ تھی کہ آپ عالم باعمل اور عاشق قرآن بنیں۔آپ فرماتے ہیں۔۔