کلامِ ظفرؔ — Page 31
45 کلا ظفر دور نبوت سے لے کر مسلمان شعراء نے حضرت نبی کریم ﷺ کی مدح کو اپنا موضوع بنایا ہے اور ایسے اشعار لکھتے ہیں کہ ان کی مثال نہیں ملتی میں ان کی مثالیں پیش کر کے اپنے مضمون کو طول نہیں دینا چاہتا۔لیکن استاذی المحترم نے آپ کی مدح میں ایک ایسی زبردست نعت رقم فرمائی ہے۔جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے۔عام دنیائے شعر و شاعری میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی آپ نے انبیاء کرام کے جملہ کمالات کو آپ کی ذات ستودہ صفات میں ثابت کیا ہے میں بطور نمونہ اس نعت سے تین بند لکھتا ہوں جن سے واضح ہوگا کہ آپ فن نعت گوئی میں بھی امام تھے۔آپ فرماتے ہیں۔موسوی اعجاز انشق الحجر آر کا اعجاز القمر دونوں میں قدرت حق ہے جلوه گر ہے موسیٰ یا ابن عبدالمطلب الله میں جو رکھے تھے صنم جن کے آگے گردنیں تھیں کی خم کر دیئے اُن کے تو نے قلم تو ہے ابراہیم یا ابن المطلب الغرض جتنے جن جن خوبیوں ہوئے وہ تو ہے جامع کا یا یا ابن قصہ بهره پیغامبر ور مختصر عبدالمطلب 46 کلام ظفر قرون اولیٰ سے لے کر آج تک مسلمانوں نے حضرت نبی کریم ﷺ کی مدح توصیف میں بہت کچھ لکھا ہے۔مگر قرآن کریم کی مدح میں آپ کو بہت کم مدحیہ کلام ملے گا۔استاذی لمحترم نے قرآن کریم کی مدح میں بھی بے مثال اشعار رقم فرمائے ہیں ، تین اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔۔قرآن پاک جہان میں تو وہ بے مثال کتاب ہے جو کمال حسن و جمال میں فقط آپ اپنا جواب ہے تری آیہ آیہ کے ربط میں ترے امر و نہی کے ضبط میں مری زندگی کا ہے ضابطہ مری بندگی کا نصاب ہے تو کلامِ ربّ خبیر ہے تو نشان شان قدیر ہے ترا کر سکے جو معارضہ بھلا کس غریب کی تاب ہے جماعت احمدیہ کے ساتھ آپ کو قلبی وابستگی تھی ایک دفعہ بعض وجوہ کی بناء پر آپ کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے اپنے وطن جانا پڑا وہاں سے آپ نے حضور کی خدمت میں ایک نظم ارسال فرمائی جس کا مضمون یہ تھا کہ مجنوں لیلیٰ سے بیزار ہوسکتا ہے ، بلبل ، نثار خار ہوسکتی ہے۔پروانہ شب تار کی زلفوں کا اسیر ہو سکتا ہے۔مچھلی مسکن آبی کو چھوڑ سکتی ہے، پانی اپنی برودت کو چھوڑ کر آگ میں بدل سکتا ہے اور آخر میں اپنے آقا کو مخاطب کر کے کہتے ہیں۔یہ ممکن ہے کوئی محمود شان بے نیازی میں ایاز با وفا برسر غرض سب کچھ یہ ممکن ہے مگر ہو جائے یہ ہو نہیں سکتا کہ احمد کی جماعت کا ظفر غدار ہو جائے