کلامِ ظفرؔ — Page 30
43 کلا ظفر ادب عربی کی شہرہ آفاق کتاب حماسہ میں بنو ذھل بن شیبان کی مدح میں ایک شاعر نے کہا ہے۔قَوْمُ إِذَا الشَّرُّ ابدَى نَا حِدَيهِ لَهُمْ طَارُوا إِلَيْهِ زُرَافَاتٍ وَوُحْدَانَا ترجمہ: جب جنگ ان کے سامنے اپنی کچلیاں نمایاں کرتی ہے تو وہ فردا فردا اور گروہ در گروہ اس کی طرف لپکتے ہیں۔ایک روز استاذی المحتر م ہمارے ہوٹل میں تشریف لائے۔نانبائی روٹیاں پکا رہا تھا اور لڑکے کھانا لینے کے لئے دوڑے چلے آرہے تھے۔آپ کی رگ ظرافت پھڑ کی اور آپ نے اس حالت کی منظر کشی کرتے ہوئے اس شعر کو یوں تبدیل کر دیا۔إِذَا مَا رَأَوْا أَنَّ الْخُبْزَ مَطبوخ طَارُوا إِلَيهِ زُرَافاتٍ وَوُحْدَانَـ ترجمہ : جب وہ دیکھتے ہیں کہ روٹی پک چکی ہے تو وہ اس کی طرف فرد فردا اور گروہ در گروہ لپکتے ہیں۔قوت حافظہ آپ کی قوت حافظہ اس قدر تیز تھی کہ آپ کو اپنے بچپن کے واقعات بھی یاد تھے۔آپ نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں اپنی والدہ کا دودھ کیسے پیا کرتا تھا۔فاضل عربی کے کورس میں حماسہ اور متنیتی ، ادب کی دو ضخیم کتابیں ہیں جن کے مجموعی صفحات ڈیڑھ ہزار کے قریب ہوں گے استاذی المحترم فرمایا کرتے تھے کہ ان دونوں کتابوں سے کوئی ایک مصرعہ پڑھو اور اس کا دوسرا مصرعہ میں آپ کو سنا دوں گا اور واقعی بات ایسے ہی تھی۔اشعار کا منظوم ترجمہ اس فن میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا۔دوران تعلیم عربی زبان کے اشعار کا منظوم ترجمہ بھی کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے ہماری کلاس کو پڑھاتے ہوئے یہ شعر پڑھا اور اس کا ترجمہ کیا۔چل بسے وہ 44 أحِبُّه کلام ظفر لوگ جن عشق تھا ایک اور شعر پڑھا اور اس کا ترجمہ کیا۔ނ فَيا مَوْلايَ مَنْ حَدَّثَ عَنّى مرے مولی مجھے کس نے بتایا ان کے علاوہ بھی کچھ اشعار کا آپ نے منظوم ترجمہ کیا تھا جو اس وقت میرے ذہن سے اتر گئے ہیں۔شعر و شاعری شاعرانہ طبیعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور زبان زمین سے ملتی ہے۔آپ محبوب کی ایک نگاہ سے مرجانے والے اور رگ گل کے ساتھ بلبل کے پر باندھنے والے شاعر نہ تھے۔آپ کی شاعری ،شریعت کی حدود اور اخلاقی قیود کی پابند تھی اور آپ شعراء کے اس گروہ سے تعلق نہ رکھتے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ہر وادی میں بہکنے والے اور خواہش پرست اور گمراہ ہیں۔استاذی المحترم کی شاعری ان نقائص سے پاک تھی آپ نے اس سے دعوت الی اللہ کا کام لیا اللہ تعالیٰ کی حمد کی نعتیں کہیں۔قرآن کریم کی مدح کی اور ان کے علاوہ بہت سے قیمتی مضامین کو اپنے اشعار میں بیان کیا۔میں بطور نمونہ آپ کے چند اشعار پیش کر کے اپنی بات کو مبرہن کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اگر لوگ زمین و آسمان کی پیدائش اور سیارگان فلک کے متعلق غور و فکر کریں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ بھی چیزیں تو حید الہی کا اعلان کر رہی ہیں۔استاذی المحترم نے اس حقیقت کو ایک شعر میں یوں اجاگر فرمایا ہے۔زبان حال سے ہر آن دے رہے ہیں صدا نجوم و شمس و قمر، لا اله الا الـ