کلامِ ظفرؔ — Page 158
299 کلام ظفر (27) دِيَارَ انْدُلُسَ بُشْرَى تَعُودُ كَرتُنَا اے دیار اُندلس تجھے ہمارا لوٹنا مبارک ہو اور وَسَيْفُ كَرينَا لَا إِلَهَ إِلَّا الله اس دفعہ ہمارے حملے کی تلوار کلمہ شریف لا الہ الا اللہ ہو گی (28) أَطارِقُ ابْنُ زِيَادٍ أَتَى يُهَبِّئُكُمْ اور اے طارق بن زیاد کی روح تجھے ہمارے ناصر نداء ناصِرِنَا لا إله لا إله إلا الله لا الہ الا اللہ کی تہنیت پیش کرتے ہیں (اردو نظم مطبوعه الفضل جلسہ سالانہ نمبر 24 دسمبر 1980ء) نوٹ : 27 اور 28 نمبر کے عربی اشعار اور ان کا اُردو ترجمہ مولانا کی طرف سے اضافی ہے۔مذکورہ بالا عربی قصیدہ حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے تحت ایم ٹی اے ربوہ نے بحوالہ 14-2-7081/1 مورخہ 2 فروری 2014ء کو ایم ٹی اے لندن کو اپ لوڈ کیا۔300 کلام ظفر خیر مقدم حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب یہ میری سب سے پہلی عربی نظم ہے جو زمانہ طالب علمی میں میں نے کہی۔محترم حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب سات سال تک دیار افریقہ میں فریضہ تبلیغ سرانجام دینے کے بعد وطن تشریف لائے تو اساتذہ و طلبا جامعہ احمدیہ قادیان نے اُن کو ایک استقبالیہ پارٹی دی۔حضرت مصلح موعود اللہ تعالیٰ اُن پر راضی ہو بھی اس تقریب میں تشریف فرما تھے۔جب یہ نظم پڑھی گئی تو حضور نے اس نظم کے بارہ میں ایک طویل تقریر فرمائی اور بے حد خوشی کا اظہار فرمایا۔مجھے یاد ہے کہ اس تقریر میں حضور نے فرمایا میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہمارے جامعہ کا کوئی طالب علم ایسی فصیح و بلیغ سکتا ہے۔تقریب کے خاتمہ پر جامعہ کے اساتذہ کو حاضرین نے بہت مبارکباد پیش کی۔فالحمد اللہ علی ذلک هذه القَصِيدَةُ ( یہ قصیده) يحيى المُحْتَرَمِ ظَفَر محمد أَنْشَدَها في مدح مُبَيرِنا المكرم الحكيمِ فَضْل الرَّحْمن ہمارے پیارے محترم ظفرمحمد صاحب کا ہے۔جو انہوں نے ہمارے مبلغ مکرم حکیم فضل الرحمن صاحب کی مدح میں پڑھا۔حِينَ وَرَدَ قَادِيَانَ بَعْدَ إِمْضَائِهِ سَبْعَ سِنِيْنَ فِي أَفْرِيُقيهِ فِي مَجْلِسِ الشَّعْوَةِ الَّذِي جب وہ افریقہ میں سات برس گزارنے کے بعد قادیان وارد ہوئے اس دعوت کے موقع پر