کلامِ ظفرؔ — Page 139
261 کلام ظفر خُدا داند که بعْضِ ایل ایماں بغض رکھنا کہ اہل ایمان سے خدا جانتا ہے لسم مُهْلِكَ مُرُّ الْمَذَاقِ ایک ایسا مہلک زہر ہے جس کا ذائقہ بڑا تلخ دل "احرار“ چوں ایں زہر چونکہ احراریوں نے زہر ہوتا ہے خورده کھا لیا ہے فَلَا يُشْفَى بِتِرْيَاقٍ وَ رَاقٍ پس کسی تریاق یا تعویز ٹونے ٹوٹکے سے اسے شفا نہیں مل سکتی نیایند باز از تكفير الا یہ لوگ کافر قرار دینے سے باز نہیں آئیں گے سوائے (اس کے کہ ) إذَا الْتَفَّتُ لَهُمْ سَاقٌ بِسَاقِ جب ( مرتے وقت ) ان کی ایک پنڈلی دوسری پنڈلی کے ساتھ لپیٹ دی جائیگی ز بس نُور خُدا بست احمديت چونکہ احمدیت ہی صرف نور خدا فَنُورُ الله لا يُعطى لِعَاقِ ہے اس لئے نور الہی کسی نا فرمان کو ہرگز عطا نہیں کیا جاتا ہلاک 262 ظالماں از عيش کلام ظفر خوشتر ایسے ظالموں کا ہلاک کیا جانا ان کے زندہ رہنے سے بہتر ہے إذَا عَاشُوا بِظُلْمٍ وَ انْشِقَاقِ جب وہ ظلم کرنے اور پھوٹ ڈالنے والی زندگی بسر کر رہے ہوں نترسند وہ نترسند از خُدا ہرگز خدا تعالیٰ سے ہرگز ہرگز نہیں ڈرتے ولا يَخْشَوْنَ أَلَامَ الْفِرَاقِ اور نہ ہی وہ دنیا سے ایک دن رخصت ہو جانے کا خوف کھاتے ہیں بجائے آخرت دنيا خریدند وہ آخرت کی بجائے دنیا خریدتے ہیں فَعَيْشُهُمْ لِأَرْغِفَةٍ رقاق وہ تو صرف پتلے پتلے پراٹھے کھانے کے لئے زندہ ہیں نخواهند کوثرے“ سلسبیلے“ نے وہ اگلے جہاں کے حوض کوثر اور سلسبیل“ کے چشموں کے ہرگز خواہاں نہیں۔فقط طلاب اشْرِبَةِ رِحَاقِ وہ تو صرف دنیا کی نشہ آور شرابوں کے طالب ہیں