کلامِ ظفرؔ — Page 138
" 259 کلام ظفر برگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق جس کا دل عشق سے زندہ ہو سے زندہ ہو گیا وہ شخص کبھی نہیں مرتا گیاوہ ثبت است بر جريده عالم دوام ما“ ہمارا ہمیشہ رہنا صفحہ عالم پر ثبت ہے۔مُسْتَبْشِرُونَ نَحْنُ بِمَنْ لَاحِقُ بِنَا ہم تو خوشخبری دینے والے ہیں جو بھی ہمارے ساتھ ملتا ہے یا رَبِّ رساں غریب ظفر را پیام ما اے رب! ہمارے اس پیغام کو بیچارے ظفر تک پہنچا دے۔روزنامه الفضل 27 جنوری 1970ء صفحہ 4) 260 کلام ظفر شراب روح پرور بخش ساقی شراب مصرع اول فارسی ،مصرع ثانی عربی) روح پرور بخش ساقی اے ساقی! تو ہمیں رُوح پرور شراب عنایت فرما تَكَادُ تَبْلُغُ النَّفْسُ التَّرَاقِي کیونکہ ہماری جان گلے تک پہنچنے کے قریب ہے ( یعنی ہمارا سانس بند ہونے کے قریب ہے) ده مئے اخلاص و تسليم و رضا اخلاص و و تسلیم اور رضا کی شراب ہمیں عطا کر فَقَد صَارَ الْوَرى أَهْلَ النِّفَاقِ کیونکہ ساری مخلوق نفاق اختیار کرنے والی بن گئی ہے دلم از جُرعه تسکیں نیابد میرا دل ایک گھونٹ سے تسکین نہیں پائے گا فَرَةِ الْقَلْبَ مِنْ كَأْسٍ دِهَاقٍ بس میرے دل کو لبالب جام سے سیراب کردے